ٹرمپ سے سرکردہ فلسطینی رہنما کی رہائی کی اپیل

0
300

غزہ / واشنگٹن: حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے میں 66 سالہ فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی رہائی کو اپنے سرفہرست مطالبات میں شامل کر لیا ہے، جو گزشتہ 23 برس سے اسرائیلی قید میں ہیں۔

اے ایف پی سے گفتگو میں مروان برغوثی کے بیٹے عرب برغوثی نے تصدیق کی کہ ان کی والدہ فدویٰ برغوثی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک اپیل جاری کی ہے جس میں ان کے شوہر کی رہائی کی درخواست کی گئی ہے۔

اپنے بیان میں فدویٰ برغوثی نے کہا کہ “جناب صدر! ایک حقیقی امن پسند رہنما آپ کی مدد کے منتظر ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “فلسطینی عوام کی آزادی اور خطے کے امن کے لیے مروان برغوثی کی رہائی ضروری ہے۔”

سیاسی ماہرین کے مطابق مروان برغوثی کی رہائی فلسطینی سیاست میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ صدر محمود عباس کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی آزادی سے فلسطینی دھڑوں میں مفاہمتی عمل تیز ہو سکتا ہے، تاہم اسرائیلی حلقوں میں اس پر شدید ردعمل متوقع ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ “فلسطینیوں کے پاس کوئی مؤثر قیادت نہیں، محمود عباس بزرگ ہیں مگر لیڈر نہیں۔”

مروان برغوثی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی شہریوں پر مہلک حملوں میں کردار ادا کیا، تاہم فلسطینی عوام انہیں “فلسطین کا نیلسن منڈیلا” قرار دیتے ہیں۔

امریکی جریدے ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مروان برغوثی کی رہائی کے معاملے پر “فیصلہ کرنے والے” ہیں مگر کوئی ٹائم لائن نہیں دی۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امریکی یہودی رہنما رونالڈ لاؤڈر بھی ان کی رہائی کے لیے خاموش سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا