وزیرِ اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے استنبول مذاکرات ناکام قرار دیتے ہوئے افغان طالبان حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ طالبان نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کی ضمانت دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد ناقابلِ تردید قرار دیے مگر افغان وفد کی جانب سے ان سے فرار اختیار کیا گیا۔ تارڑ نے قطر اور ترکی کی ثالثی اور سہولت کاری کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی اور شواہد پیش کیے گئے تو پاکستان اپنے حق کے تحت جواب دینے سے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے طالبان کے بعض بیانات کو انتشار اور منافقت قرار دیا، کہا کہ طالبان کی حمایت ٹیکنیکل یا زبانی وعدوں تک محدود ہے اور تحریری ضمانت دینے سے گریز ان کی نیت واضح کرتا ہے۔ تارڑ نے بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے دفاعی حقوق کا حوالہ دیا اور انتباہ کیا کہ کسی بھی مہم جوئی کا سخت جواب دیا جائے گا؛ حالات کے آگے بڑھنے کا انحصار آنے والے چند روز میں واضح ہوگا۔






