روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ روس نے پوسیڈن نامی جوہری طاقت سے چلنے والے سپر ٹارپیڈو کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پوتن کے بقول اس مشق کے دوران نہ صرف ڈیوائس کو کیریئر آبدوز سے لانچ کیا گیا بلکہ اس کا نیوکلیئر پاور یونٹ بھی کامیابی کے ساتھ فعال کیا گیا۔ روسی سرکاری موقف میں کہا گیا ہے کہ پوسیڈن سمندری سطح پر وسیع تابکار لہریں پیدا کر کے ساحلی نشانے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پوتن نے پوسیڈن کے علاوہ حالیہ دنوں میں Burevestnik کروز میزائل کے ایک نئے تجربے اور جوہری لانچ مشقوں کا بھی حوالہ دیا، اور یہ پیغام دیا کہ روس اپنی عسکری صلاحیتیں مظاہرے کے ذریعے عالمی دباؤ کا جواب دے رہا ہے۔ روسی بیان کے مطابق یہ جدید ہتھیار روایتی نیوکلیئر توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں اور ان کی کچھ تکنیکی خصوصیات میں لمبی رینج اور طاقتور وار ہیڈ شامل ہیں۔
اس اعلان کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ پوتن کو ایسے تجربات کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنی چاہیے۔ پوتن کے حالیہ اقدامات کو بین الاقوامی تجزیہ کار اکثر جوہری حکمتِ عملی اور ہتھیاروں کی دوڑ کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین اس ہتھیار کی تکنیکی پیچیدگی اور اس کے انفراسٹرکچر کے خطرات پر بھی تبصرہ کر رہے ہیں۔
روسی اعلان نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق عالمی ضوابط، کنٹرول معاہدوں اور علاقائی سیکورٹی پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماسکو کا موقف یہ ہے کہ یہ تجربات دفاعی حکمتِ عملی اور روسی ردعمل کے ضمن میں کیے گئے، جبکہ مخالف حلقے ان کا تعلق کشیدگی اور اسلحہ کی دوڑ سے جوڑ رہے ہیں۔






