باجوڑ:پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، خارجی کمانڈر امجد سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

0
266

راولپنڈی: خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر فتنۂ خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے خارجی کمانڈر سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے 29 اور 30 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان بارڈر کے قریب داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگا کر کارروائی کی اور منصوبہ ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران چار خارجی ہلاک ہوئے جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ امجد نور ولی کا نائب اور فتنۂ خوارج کی رہبری شوریٰ کا سربراہ تھا، وہ افغانستان میں مقیم ہونے کے باوجود پاکستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔

عزمِ استحکام کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے اور انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی تاکہ بیرونی سرپرستی میں پنپنے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ فتنۂ خوارج کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر دراندازی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ پاکستان میں اپنی موجودگی کا تاثر برقرار رکھا جا سکے، مگر سکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔

وزیراعظم کا خراجِ تحسین

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے باجوڑ میں انتہائی مطلوب خارجی سرغنہ سمیت چار دہشت گردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے امجد اور اس کے ساتھیوں کو ناکام بنایا، جس سے پاکستان کی سالمیت کے دشمنوں کے مزموم عزائم پسِ پردہ رہ گئے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو اسی طرح شکست دیتے رہیں گے اور حکومت پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا