جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر ایس ایس پی لاڑکانہ سمیت 4 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم

0
229

لاڑکانہ: سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ بینچ نے ایک شہری پر جھوٹا مقدمہ قائم کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی لاڑکانہ احمد فیصل چوہدری، ڈی ایس پی پراسیکیوشن بشیر ابڑو، تھانہ ہتری غلام شاہ کے ایس ایچ او شمشاد ابڑو اور تفتیشی افسر کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کیس کی مزید تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انکوائری 7 دن کے اندر مکمل کی جائے۔ ساتھ ہی آئی جی سندھ کو پابند کیا گیا کہ وہ تمام افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی رپورٹ بھی ایک ہفتے کے اندر عدالت میں جمع کرائیں تاکہ کوئی بھی پولیس افسر تفتیش پر اثر انداز نہ ہو سکے۔

شہری امتیاز سہتو کے خلاف تھانہ ہتری غلام شاہ میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس کے قبضے سے دستی بم برآمد ہوا اور وہ لاڑکانہ–خیرپور پل کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ملزم 11 اگست 2025 سے سی آئی اے لاڑکانہ کی غیرقانونی حراست میں تھا اور پولیس نے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا کر ملزم کو ہراساں کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ محراب پور کا رہائشی شخص 100 کلومیٹر دور جا کر پل اڑانے کی کوشش کرے، یہ دعویٰ غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔

عدالت نے امتیاز سہتو کی 20 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت بھی منظور کر لی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا