ایف آئی اے نے کراچی میں پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کے تحت درج کر لیا ہے۔ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں درج ہوا، جس میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے اہلکار نامزد ہیں۔
مقدمے کے مطابق دورانِ حراست محمد عرفان پر تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ نوجوان کو 22 اکتوبر کو عائشہ منزل سے حراست میں لیا گیا تھا، جہاں بعد میں اس کی موت پولیس کسٹڈی میں ہوئی۔
عدالتی حکم پر کیس ایف آئی اے منتقل کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ محمد عرفان کو غیر قانونی طور پر کیوں اور کس مقصد کے لیے گرفتار کیا گیا۔ نامزد اہلکاروں میں سے دو گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ چار کی تلاش جاری ہے۔






