سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے اور پیپلز پارٹی بھی “ٹوپی ڈرامے” میں شامل ہے۔
اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ہنگامی اجلاس اسی معاملے پر بلایا گیا تھا اور آئینی ترمیم کے ذریعے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا گیا ہے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کا ٹویٹ بھی تشویشناک ہے، لگتا ہے پیپلز پارٹی مکمل طور پر حکومتی منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی جمہوریت کے لیے کھڑی ہوتی تھی، جبکہ آج کی پی پی پی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ کہاں گیا؟ اقتدار کے لیے اصولوں کو قربان کیا جا رہا ہے۔
اسد قیصر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو سفارشات ارسال کر دی گئی ہیں، اور اگر ان سے ملاقات ہو گئی تو اس حوالے سے پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی رابطہ مہم چلائیں گے اور پارلیمنٹ میں بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔






