۔ 27ویں آئینی ترمیم کسی صورت منظور نہیں ہونے دینگے، اپوزیشن اتحاد

0
489

اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ہنگامی اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے۔ رہنماؤں کے مطابق مجوزہ ترمیم جمہوریت، عدلیہ اور سویلین اداروں کے لیے شدید خطرات رکھتی ہے اور اس سے ریاستی ڈھانچہ متاثر ہوگا۔

اسد قیصر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا گیا ہے اور یہ سب صرف دکھانے کے لیے ہو رہا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پیپلز پارٹی جمہوریت دفن کرنے کے لیے کردار ادا کر رہی ہے جبکہ نواز شریف بھی ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے سے پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک میں جبر کا نظام نافذ ہے اور شہریوں کے آئینی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجوزہ عدالتی اصلاحات کے نتیجے میں عدلیہ کا ڈھانچہ کمزور ہوگا، ججوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ بیوروکریسی کی طرح کی جائے گی اور فیصلوں پر دباؤ بڑھے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم اور کمانڈر ان چیف کا نیا عہدہ لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، جو سویلین بالادستی کو شدید نقصان پہنچائیں گی اور ملک کی بنیادیں ہلا دیں گی۔

رہنماؤں نے کہا کہ وہ پارلیمان، عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس ترمیم کو روکیں گے اور ہر فورم پر مزاحمت جاری رکھیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا