راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا گیا کہ عمران خان نے فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی قسم کی بات چیت کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی رابطہ یا بات چیت ہوگی تو وہ صرف تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگی۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان نے موجودہ حالات کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین سال میں جتنا دباؤ، سختیاں اور سیاسی انتقام ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو فائدہ، جبکہ وفادار رہنے والوں کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کی قید کی صورتحال کو بھی غیر انسانی قرار دیا۔
عمران خان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے جتنی بار بھی بات ہوئی، ہر بار پی ٹی آئی کے لیے حالات مزید بگڑے۔ اسی لیے اب نہ فارم 47 کی حکومت سے اور نہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر ہونے والا سلوک ملکی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کے ساتھ نہیں ہوا۔ عمران خان نے کہا کہ آزادی یا موت—اس کے سوا کوئی راستہ قبول نہیں۔
انہوں نے سلمان اکرم راجا پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پارٹی کے نام پیغامات صرف انہی کے ذریعے بھیجے جائیں۔






