طالبان کی جانب سے افغان خواتین کو اس مقام پر کام کرنے سے روکنے کے بعد اقوام متحدہ نے افغانستان کی اسلام قلعہ سرحد پر اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔اقوام متحدہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے طالبان کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کے بعد افغانستان اور ایران کے درمیان اسلام قلعہ کراسنگ پر انسانی ہمدردی کے کاموں کو روک دیا ہے۔افغانستان میں اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی رابطہ کار اندریکا رتواٹے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کا یہ فیصلہ افغان خواتین عملے کو سرحد پر اپنے فرائض انجام دینے سے روکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں نے “فوری طور پر آپریشنل چیلنجز” پیدا کیے ہیں
اور “واپس آنے والی افغان خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں اور وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کے لیے اسلام قلعہ ایک اہم داخلی مرکز ہے، جہاں واپس آنے والوں میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔رتواتے نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین عملے کے بغیر، اقوام متحدہ “واپس آنے والی خواتین اور بچوں کو انسانی وقار کے مطابق خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔طالبان نے 2022 میں افغان خواتین پر این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی تھی اور اگلے سال اقوام متحدہ کے دفاتر تک اس پابندی کو بڑھا دیا تھا ، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے
کہ اس سال اسلام قلعہ کے ذریعے 1.2 ملین سے زائد افغان ایرانی وطن واپس آئے ہیں جو ہمسایہ ممالک سے واپس آنے والے 2.2 ملین کا حصہ ہیں۔انسانی حقوق کے مبصرین اوراقوام متحدہ نے اسلام قلعہ بارڈر پر آپریشن روک دیا امدادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ خواتین کی ملازمت پر طالبان کی مسلسل پابندیوں سے افغانستان میں انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی امدادی کارروائیوں کو مزید مفلوج کیا جائے گا۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اقدام سے افغانستان کی تنہائی کو مزید خراب کرنے کا خطرہ ہے، کیونکہ اقوام متحدہ اور عطیہ دہندگان صنفی بنیادوں پر گہری پابندیوں کے درمیان بات چیت کی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔






