سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی

0
486

اسلام آباد: سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی۔ ترمیمی بل کی 56 شقیں اور 3 شیڈولز منظور کیے گئے، جبکہ ترمیم کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا۔

منظوری کے حق میں ووٹ دینے والوں میں پیپلزپارٹی کے 25، مسلم لیگ ن کے 20 اور 6 آزاد سینیٹرز شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے 3، اے این پی کے 3، باپ کے 4 اور ق لیگ کے ایک سینیٹر نے بھی حمایت کی۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی ف کے سینیٹر احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، تاہم مجموعی طور پر پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، ایم ڈبلیو ایم اور جے یو آئی ف نے ترامیم کی مخالفت کی۔

نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر جان محمد بلیدی اجلاس سے غیر حاضر رہے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جبکہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث شریک نہ ہو سکے۔

منظوری کا عمل شروع ہوتے ہی ایوان میں شور شرابہ ہوا، اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ سینیٹر روبینہ ناز کے اصرار کے باوجود سینیٹر سیف اللہ ابڑو احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ تمام جماعتوں نے ترمیم کی تیاری میں بھرپور کردار ادا کیا۔ میثاقِ جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام بنیادی نکتہ تھا اور مشترکہ کمیٹی میں تمام جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت متوازی نہیں بلکہ مکمل طور پر آئینی ہے۔

دورانِ کارروائی سینیٹر ہمایوں مہمند نے سینیٹ میں اراکینِ قومی اسمبلی کی موجودگی پر اعتراض بھی اٹھایا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا