بنگلادیشی عدالت نے حسینہ واجد کو طلبہ کے قتل عام پر سزائے موت کا حکم دے دیا

0
1283

دھاکہ: بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-1 نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنا دی ہے۔

ٹریبونل نے یہ فیصلہ اس مقدمے میں سنایا ہے جو جولائی پچھلے سال بغاوت کی کارروائی کے دوران درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق آئی جی پولیس چودھری عبداللہ المامون کو بھی شریک ملزم قرار دیا گیا ہے۔

اسد الزماں اب تک فرار ہیں، جبکہ المامون تحویل میں ہیں اور انہوں نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ المامون ریاستی گواہ بھی بن چکے ہیں — 2010 میں ٹریبونل کے قیام کے بعد وہ پہلا ملزم ہیں جو ریاستی گواہ بنے ہیں۔

فیصلہ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 453 صفحات پر مشتمل فصیلے کا حصہ پڑھنے کے بعد دیا ہے۔

ٹریبونل نے پہلے ہی حکم دیا تھا کہ شیخ حسینہ بھارت سے واپس آئیں اور ٹرائل میں شرکت کریں، مگر انہوں نے اس حکم کو نظر انداز کیا۔ استغاثہ نے تینوں مجرمان کی جائیدادیں ضبط کرنے اور متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا