طالبان کیخلاف نئی عالمی پابندیوں کی تجویز

0
452

میلبرن: آسٹریلوی حکومت نے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور طالبان کے مظالم کے پیشِ نظر نئے پابندیوں کے قوانین متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔

حکومت کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیاں اور دیگر اقدامات نافذ کیے جا سکیں گے، اور افغانستان کے لیے مخصوص معیار وضع کیے جائیں گے تاکہ طالبان کی ذمہ داری طے کی جا سکے۔

ہیومن رائٹس واچ کی آسٹریلیا میں ڈائریکٹر ڈینیلا گاوشون نے کہا کہ طالبان کے سنگین جرائم کے احتساب کے لیے آسٹریلیا کا اقدام اہم ہے، کیونکہ طالبان نے افغانستان میں خواتین پر شدید قدغنیں لگا رکھی ہیں جو جرمِ انسانیت اور صنفی ظلم کی واضح مثال ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین بھی طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو “منظم صنفی تفریق” قرار دے چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق طالبان نے سول آزادیاں محدود کرتے ہوئے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست اور تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے اقدامات عالمی سطح پر طالبان کے سفاکانہ اقدامات کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا