لاہور میں ضلعی سفارش پر دینی اجتماع کی منظوری، متعدد پابندیاں برقرار

0
407

محکمہ داخلہ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر مینارِ پاکستان پر دینی، دعوتی اور اصلاحی اجتماع کی اجازت دے دی ہے۔

جماعت اسلامی نے 21 تا 23 نومبر اجتماع کے لیے این او سی کی درخواست دی تھی، جس پر ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی نے دفعہ 144 میں مخصوص نرمی کی سفارش کی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر دفعہ 144 میں یہ محدود نرمی شامل کی گئی اور اسے باقاعدہ حکم نامے کا حصہ بنا دیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ نے اس اجتماع کے لیے 20 اکتوبر کو این او سی جاری کیا تھا، جس کی توثیق کے لیے درخواست کی گئی۔ اجتماع کی اجازت سخت شرائط و ضوابط سے مشروط رکھی گئی ہے۔

اجازت نامے کے مطابق منتظمین کو انتظامیہ کے مقرر کردہ تمام قواعد پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ اجتماع کی اجازت منتظمین کے حلف نامے اور ذمہ داری قبول کرنے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔

انتظامیہ سٹیج سکیورٹی، خواتین و مرد حضرات کے لیے علیحدہ انکلوژرز، اور ہنگامی راستے فراہم کرے گی۔ ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مناسب پارکنگ اور رضاکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

سکیورٹی انتظامات اسپیشل برانچ کے آڈٹ کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔ اجتماع کے دوران ساؤنڈ سسٹم صرف گراؤنڈ کے اندر اور کم آواز میں استعمال کیا جائے گا۔ کم عمر بچوں کو لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اجازت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ دکانداروں کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی جلوس یا ریلی سڑکوں پر نکالی جائے گی۔

آئینی اداروں، عدلیہ یا افواج کے خلاف تقاریر مکمل طور پر ممنوع ہوں گی۔ اسلحہ، لاٹھی یا کسی مذہبی گروہ کی توہین پر مبنی گفتگو کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

اجتماع کے اعلان کے لیے موبائل وین یا گاڑیوں کا استعمال نہیں ہوگا اور شہر میں وال چاکنگ پر پابندی رہے گی۔ اشتعال انگیز نعرے بازی اور قابل اعتراض مواد پر مکمل پابندی ہوگی۔

منتظمین کسی بھی ناگہانی واقعے کی مکمل ذمہ داری لیں گے جبکہ پولیس شرکاء اور عام شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا