نواز شریف بتائیں 70 ہزار جعلی ووٹوں سے کیسے جیتے، فارم 47 کی حکومت حقائق پر بات کرے:حافظ نعیم الرحمن

0
451

لاہور: امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سب سے پہلے یہ جواب دینا ہوگا کہ وہ 70 ہزار جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کیسے جیتے اور انہیں اسمبلی تک کون لایا۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس لیے مسلم لیگ ن کی قیادت کو حقائق کی بات کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات تھے تو پھر اسی کے ساتھ مل کر دوبارہ اقتدار میں کیوں آئے اور جمہوریت پر حملہ کیوں کیا۔

حافظ نعیم کے مطابق ن لیگ کی قیادت ناراض ہو تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے لگاتی ہے اور مفاہمت ہو جائے تو اسی کے حق میں بات کرتی ہے، لہٰذا نواز شریف کو جواب دینا ہوگا کہ ’’ووٹ کو کتنی عزت ملی؟‘‘

انہوں نے تین روزہ اجتماعِ عام کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ’بدل دو نظام‘ تحریک کے سلسلے میں بڑے شہروں کے امراء کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحۂ عمل طے کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ضروری ہے اور ستائیسویں آئینی ترمیم بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے، جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ کبھی آر ٹی ایس کے نام پر اور کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق بیوروکریسی آج بھی نوآبادیاتی سوچ کے ساتھ عوام پر حکمرانی کر رہی ہے، جبکہ نوکری شاہی اوپر والوں کو خوش کر کے کرپشن کرتی ہے اور اختیارات نچلی سطح تک نہیں آنے دیتی۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی سیاسی جماعتیں اپنے ہی کارکنوں سے خوفزدہ ہیں، اسی وجہ سے عوام دشمن قوانین منظور ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی پارلیمنٹ نے جو بلدیاتی قانون پاس کیا ہے وہ کالا قانون ہے، جس کے خلاف عدالت اور سڑک دونوں میدانوں میں جائیں گے۔

حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ مقامی حکومتوں کے اختیارات کی بحالی کے لیے لائحۂ عمل تیار کر لیا گیا ہے اور 7 اور 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں اس قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی قانون میں میٹروپولیٹن اور ڈسٹرکٹ کونسلز کو ختم کر دیا گیا ہے، اور اختیارات کی منتقلی کا کوئی واضح طریقہ شامل نہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں تعلیم، پولیسنگ اور انتظامی اختیارات مقامی حکومتوں کو ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ان سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم نے پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت قتل اور منشیات کے پھیلاؤ پر بھی تشویش ظاہر کی، کہتے ہیں کہ ڈرگ مافیا کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے اور منشیات تعلیمی اداروں تک پہنچ رہی ہیں۔

انہوں نے خارجہ پالیسی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آزادانہ پالیسی اپنانا ہوگی، امریکی دباؤ میں آکر کچھ حاصل نہیں ہوگا، ”ٹرمپ کی چاپلوسی بھی فائدہ نہیں دے گی“۔

تعلیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی 88 فیصد آبادی اعلیٰ تعلیم سے دور ہے اور تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق جامعات عالمی درجہ بندی میں پیچھے ہیں اور نظامِ تعلیم چند طبقات تک محدود ہو چکا ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بدترین بدعنوانی کا ذمہ دار موجودہ صوبائی حکمران ہیں، جبکہ سندھ میں ڈاکو راج برقرار ہے۔ بلوچستان میں پانی اور بجلی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں بھی جماعت اسلامی اپنی تحریک آگے بڑھا رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں امن، شہری سہولیات، بلدیاتی حقوق اور آئینی حکمرانی کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی اور عوام کے مسائل پر مزید استحصال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے دھرنے اور اسمبلیوں کے گھیراؤ سمیت ہر جمہوری راستہ استعمال کیا جائے گا تاکہ ’بدل دو نظام‘ تحریک آگے بڑھ سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا