برطانوی عدالت نے عادل راجہ کو سزا سنا دی

0
374

برطانیہ میں مقیم سابق فوجی افسر اور یوٹیوبر عادل راجہ کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عادل راجہ کی جانب سے کی جانے والی معافی ایکس، فیس بک، یوٹیوب اور ان کی ویب سائٹ پر کم از کم 28 دن تک نمایاں طور پر موجود رہنی چاہیے۔ اس کے علاوہ جج نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ عادل راجہ 22 دسمبر تک مجموعی طور پر 3 لاکھ 10 ہزار پاؤنڈ ہرجانے اور عدالتی اخراجات کی مد میں ادا کریں۔

عادل راجہ اپنے خلاف رواں برس اکتوبر میں دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس میں ناکام رہے تھے۔ ہائی کورٹ کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔ عادل راجہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی درخواست بھی کی گئی تھی، جسے جج نے مسترد کردیا۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے کے مطابق باضابطہ آرڈر جاری کیا جائے۔

تفصیلی حکم میں جج نے واضح کیا کہ عادل راجہ کو 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ عدالتی اخراجات ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اضافی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا، اور وہ بھی عادل راجہ ہی کو ادا کرنا ہوں گے۔ جج نے عادل راجہ کو حکم امتناعی بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت انہیں آئندہ بریگیڈیئر راشد نصیر سے متعلق کسی بھی ہتک آمیز بیان کو دہرانے سے منع کیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد عادل راجہ کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو کورٹ آف اپیل میں لے کر جائیں گے۔ عادل راجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل ضرور کریں گے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے عادل راجہ کے بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ آج کے فیصلے کے لیے بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر خود عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عادل راجہ کی جانب سے ان کے وکلا نے نمائندگی کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا