پاکستان کی 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک

0
342

ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایشین واٹر ڈویلپمنٹ آؤٹ لُک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی 80٪ آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی آبادی کے باعث فی کس پانی کی دستیابی میں شدید کمی آئی ہے اور 1972 میں 3500 کیوسک میٹر فی کس پانی اب 2030 تک 1100 کیوسک میٹر رہ جانے کا امکان ہے۔ صاف پانی کی کمی بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کے نظامِ گورننس کو بہتر بنانے کے لیے آئندہ دس برسوں میں 35 سے 42 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ زراعت میں زیادہ پانی کے استعمال، آلودگی میں اضافے اور انفراسٹرکچر کی کمزوری کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح اور دریاؤں کا نظام خطرات سے دوچار ہے۔ دیہی علاقوں میں پانی کی سپلائی اور نگرانی غیر مؤثر جبکہ شہری علاقوں میں پانی کی طلب سالانہ 10 فیصد بڑھ رہی ہے۔

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کو کمزور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، فرسودہ نظام، ناقص بلنگ اور کم ریکوری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ شہری علاقوں میں بغیر ٹریٹمنٹ شدہ پانی اور اربن فلڈنگ بھی بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ فنڈنگ ناکافی ہے اور پانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 12 ہزار ارب روپے درکار ہوں گے، اگرچہ گزشتہ 13 برسوں میں واٹر سکیورٹی اسکور میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا