انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منگل کے روز سات منزلہ عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس حادثے میں اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 15 خواتین بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر اُس وقت لگی جب ڈرون کی بیٹری پھٹ گئی، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک تحقیقات جاری ہیں۔ سینٹرل جکارتہ پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ دوپہر کے وقت لگی اور فائر فائٹرز کے پہنچنے تک یہ اوپر کی منزلوں تک پھیل چکی تھی۔ جکارتہ فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 100 سے زائد فائر فائٹرز اور 29 فائر ٹرک موقع پر موجود تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں جھلسنے سے نہیں بلکہ دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئیں۔ فائر فائٹرز عمارت کو ٹھنڈا کرنے اور دھواں نکالنے میں مصروف ہیں، جس کے بعد دوبارہ سرچ آپریشن کیا جائے گا تاکہ مزید متاثرین تک پہنچا جا سکے۔






