فیض حمید کیخلاف فیصلہ حق و سچ کی فتح ہے،عطا تارڑ

0
395

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہے اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید پر سنائی گئی سزا اس کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر بھی تھے اور آج کا فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہے۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ فیض حمید کے خلاف شواہد کی بنیاد پر فیصلہ آیا، انہیں ٹرائل میں اپنا دفاع کرنے اور گواہان پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا۔ تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں انصاف پر مبنی فیصلہ سنایا گیا، اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو غلط استعمال کیا، سیاسی معاملات کی مزید تحقیقات بھی کی جائیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ ان پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور متعلقہ افراد کو نقصان پہنچانے کے چار الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم کے حقوق سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، اور انہیں متعلقہ فورم پر اپیل کا حق حاصل ہے۔ فیض حمید کے سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر عدم استحکام پیدا کرنے والے دیگر معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔

کورٹ مارشل کا عمل 12 اگست 2024 کو شروع ہوا اور 15 ماہ تک جاری رہا، جس کے بعد عدالت نے تمام الزامات میں ملزم کو قصوروار قرار دے کر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا