افغان قیادت سے تحریری ضمانتیں چاہئیں، دفتر خارجہ

0
373

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ابھی روایتی معنوں میں جنگ بندی نہیں ہوئی اور صورتحال ایسی نہیں کہ کہا جا سکے کہ بہتری آئی ہے۔ افغان قیادت سے تحریری ضمانتیں درکار ہیں۔

ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان میں منظور ہونے والی قرارداد کا مسودہ ابھی تک نہیں دیکھا گیا، افغان شہریوں کی جانب سے کسی قسم کی دہشت گردی کے معاملے کو تسلیم کرنا مثبت ہے، تاہم تحریری ضمانتیں ضروری ہیں۔ امدادی قافلہ پاکستان کی جانب سے کلیئر ہے اور طالبان پر ہے کہ وہ اسے وصول کریں یا نہیں۔

انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا کسی سے چھپا نہیں، اور یہ خطرناک ہتھیاروں تک رسائی کا باعث بن سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت نے سارک کے عمل کو روکا ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں کشمیری غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق 2800 کشمیری جبری قید میں ہیں۔

غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رفاہ کراسنگ کھولنے پر پاکستان سمیت 8 اسلامی عرب ممالک نے بیان جاری کیا، پاکستان نے ابھی تک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں حصہ دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے، لہٰذا کیس ٹو کیس بیس پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا