لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، قبضے واپس لینے کا حکم

0
360

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فل بنچ تشکیل دینے اور آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عابدہ پروین سمیت دیگر درخواست گزاروں کی سماعت کی اور تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کرنے کے بعد فل بنچ بنانے کی سفارش کردی۔ عدالت نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضوں کو بھی واپس لینے کے احکامات جاری کیے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اگر کسی نے جاتی امرا کے خلاف درخواست دی تو ڈی سی کس حد تک کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں پیش نہیں ہوئے، جس پر بتایا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل بیمار ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں مگر عدالت میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لگتا ہے کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں، لیکن یہ قانون کس مقصد کے لیے بنایا گیا، اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ انہوں نے ڈی سی کی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دیا جائے تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا جعلی رجسٹریاں اور دستاویزات بنائی جا رہی ہیں، اور اگر پٹواری غلط کام کرے تو سول عدالتوں میں کیسز کیسے دائر ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کے ممبران لوگوں کو دھمکاتے ہیں اور قبضے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جو قانون کے منافی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گئے اختیارات سے قبضہ گروپس تشکیل پا سکتے ہیں، اس لیے آرڈیننس پر عملدرآمد فوری طور پر روکا جائے۔

عدالت نے درخواست پر فل بنچ تشکیل دینے اور تمام قبضوں کو واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا