وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مریم نواز کو خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود پنجاب میں جلسہ کریں گے اور پھر واضح ہو جائے گا کہ کس کی کال پر عوام زیادہ نکلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دعویٰ ہے کہ عمران خان کی کال پر عوام باہر نہیں آتے تو مریم نواز ایک ہفتے کی تیاری کے بعد کے پی آ کر جلسہ کر کے دکھائیں۔
لاہور کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی نے پنجاب سے 180 نشستیں جیتیں، جو عوامی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے فارم 47 کے ذریعے بننے والی حکومت کو عوام سے کٹی ہوئی قرار دیا اور الزام لگایا کہ پنجاب میں جبر، گرفتاریاں اور خوف کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے دورہ لاہور سے قبل کارکنان کو گرفتار کیا گیا، سڑکیں بند رہیں اور ایک منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ غیر جمہوری رویہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ طرزعمل ملک کو خطرناک سمت کی طرف لے جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، اس لیے پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مشاورت سے پالیسی بنانا ہی مؤثر حل ہے۔
دورے کے اختتام پر انہوں نے مزار اقبال پر حاضری دی اور الزام لگایا کہ وہاں بھی لائٹس بند کر کے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جو ان کے بقول فسطائی طرزِعمل کی عکاسی ہے۔






