۔2025 سے 2026، تقدیر سال نہیں فیصلے بدلتے ہیں

0
1232
سندر شعیب ایڈووکیٹ

سنُدر شعیب

سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ قوموں اور معاشروں کے اجتماعی شعور، فیصلوں اور سمت کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ ہر سال کے اختتام پر ہمیں اپنی کامیابیوں، ناکامیوں اور سیکھنے کے مواقع کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ آئندہ کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔ 2025 ایک ایسا سال تھا جس نے دنیا، خطے اور پاکستان کے لیے بے یقینی، اضطراب، آزمائشیں اور کئی تلخ سچائیاں ساتھ لائیں۔ اب جب 2026 کا آغاز ہو رہا ہے ۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ماضی سے کیا سبق سیکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں، اور نیا سال ہمارے لیے کیا مواقع اور چیلنجز لے کر آئے گا۔2025 عالمی سطح پر بے یقینی اور اضطراب کا سال رہا۔ یوکرین جنگ کے اثرات یورپ اور عالمی معیشت پر محسوس کیے گئے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی ضمیر کو بار بار جھنجھوڑا۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت اور معیشت کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا کے سیاست، تجارت اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا۔

توانائی کے بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے زیادہ چیلنج بنے۔ عالمی ادارے اور فورمز مسائل حل کرنے کی بات تو کرتے رہے مگر عملی اقدامات محدود اور کافی دیر سے نظر آئے، جس نے عالمی سطح پر بے چینی اور اضطراب کو مزید بڑھایا۔پاکستان کے لیے 2025 ایک مشکل مگر سبق آموز سال رہا۔

معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، قرضوں کی بھاری ذمہ داریاں اور سیاسی عدم استحکام نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی اور الزامات کا سلسلہ غالب رہا، جبکہ ادارہ جاتی کشمکش نے حکمرانی کے نظام کو کمزور کیا۔ اس سب کے باوجود مکمل مایوسی کی تصویر درست نہیں۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت میں ترقی، نوجوانوں میں کاروباری اور فری لانسنگ کے رجحان، اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں استحکام نے یہ ثابت کیا ۔

کہ قومی صلاحیت ابھی بھی موجود ہے۔ اصل مسئلہ سمت کے درست تعین کا ہے اور اس سلسلے میں قیادت کی سنجیدگی اور سیاسی عمل کی پختگی لازمی ہے۔2025 میں ٹیکنالوجی نے زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن تعلیم، صحت اور کاروبار میں اس کے استعمال نے سہولتیں فراہم کیں، مگر ساتھ ہی انسانی محنت، روزگار کے تحفظ، اخلاقیات اور پرائیویسی کے مسائل بھی سامنے آئے۔

سہولت کے ساتھ عدمِ تحفظ کا احساس بڑھا، جو آنے والے برسوں میں ایک بڑا سماجی اور معاشرتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر انسانی اقدار اور معاشرتی ذمہ داری کے دائرے سے باہر ہو جائے تو یہ فائدہ کے بجائے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔گزرا ہوا سال یہ بھی واضح کر گیا کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ ادارہ جاتی تصادم اور سیاسی خلفشار ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

وقتی اور عارضی اقدامات مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتے۔ قومی پالیسیوں میں تسلسل اور دیانتداری کا فقدان عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور مجموعی ترقی کے امکانات کو محدود کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کے اختتام پر محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت پیدا ہوتی ہے، تاکہ آئندہ کے فیصلے درست سمت میں ہوں اور قومی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔اب نگاہیں 2026 کی طرف ہیں، جو امید اور چیلنجز کا مجموعہ ہے۔

عالمی سطح پر توقع ہے کہ براہِ راست تصادم اور جنگ کے بجائے سفارتی اور معاشی محاذ آرائی کو ترجیح دی جائے گی۔ عالمی معیشت میں استحکام، توانائی اور خوراک کے بحران، اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل اہم ایجنڈا رہیں گے۔ بڑی طاقتوں کے تعلقات میں توازن کی کوششیں جاری رہیں گی، اور علاقائی کشیدگی کے مسائل بھی سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے حل کی کوششوں کا محور بنیں گے۔پاکستان کے لیے 2026 فیصلہ کن سال ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر سیاسی استحکام پیدا کیا گیا، معاشی اصلاحات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا گیا اور قومی مفاد کو ذاتی ترجیحات پر فوقیت دی گئی تو مہنگائی میں بتدریج کمی، سرمایہ کاری میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، ماضی کی غلطیوں کا تسلسل اور سیاسی عدم استحکام وقت ضائع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ملک کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم نے معاشی اور سیاسی اصلاحات کو کس حد تک بروئے کار لایا۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ 2026 ان کے لیے محض ایک اور سال نہیں بلکہ مستقبل کے تعین کا موقع ہے۔

نوجوانوں کی تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو صحیح سمت میں لگانے سے وہ قومی بحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ریاست کا کردار یہاں نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر نوجوانوں کو مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے نوجوانوں کو ہنر اور علم کے ذریعے مسلح کرنا لازمی ہے تاکہ وہ معاشرتی اور اقتصادی چیلنجز سے نہ صرف نمٹ سکیں بلکہ ملک کے لیے مثبت تبدیلی لائیں۔2025 نے یہ بھی سکھایا کہ بحران اچانک نہیں آتے، انہیں غلط فیصلوں، تاخیر اور بے سمتی کے ذریعے دعوت دی جاتی ہے۔

معاشرتی اور سیاسی نظم و نسق میں کمی قوموں کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے، جبکہ صحیح سمت میں کیے گئے فیصلے ہی معاشرت اور ترقی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ 2026 ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر ہم نے ماضی سے سبق سیکھا، مکالمے اور تدبر اپنایا اور قومی مفاد کو ترجیح دی، تو نیا سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ نئے آغاز اور بہتر مستقبل کی علامت بن سکتا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ قوموں کی تقدیر سال نہیں بدلتے، فیصلے بدلتے ہیں۔

جو قوم اپنے فیصلوں میں احتیاط، تدبر اور دور اندیشی اپناتی ہے وہ بحران کو مواقع میں بدل سکتی ہے، اور جو قوم صرف وقتی مقاصد اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، وہ مسلسل ناکامی اور مشکلات کی طرف بڑھتی ہے۔ 2026 ہمارے لیے یہ چیلنج پیش کر رہا ہے ۔

کہ ہم ماضی کے اسباق کو یاد رکھیں اور عملی اصلاحات کے ذریعے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔ 2025 نے ہمیں دکھایا کہ مشکلات اور بحران ہر ملک کی ترقی کے لیے امتحان ہیں، جبکہ 2026 ایک نیا آغاز ہے—اگر ہم نے سیکھا اور صحیح سمت اختیار کی۔ قوموں کی تقدیر ان کے فیصلوں کی مرہونِ منت ہے، نہ کہ صرف وقت کی تبدیلی کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا