مذہبی منافرت اور تقسیم کو روکنا علما کی ذمہ داری ہے،مریم نواز

0
451

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مذہبی منافرت اور تقسیم کو روکنا تمام علما کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ بعض عناصر نے مذہب کے نام پر فتنے کو فروغ دے کر معاشرے کو نقصان پہنچایا۔

علما کرام میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ علما اور آئمہ کرام غمی اور خوشی کے مواقع پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں، تاہم انہیں ان کا جائز مقام نہیں دیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 80 ہزار مساجد ہیں اور انہیں 70 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ کئی آئمہ نے بتایا کہ انہیں ماہانہ صرف 5 ہزار روپے ملتے ہیں، جس پر انہیں شدید دکھ ہوا۔ مریم نواز نے اعلان کیا کہ علما، آئمہ کرام اور خطیب صاحبان کو 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ 25 ہزار روپے کوئی بڑی رقم نہیں، لیکن اس سے آئمہ کرام کی زندگی میں کچھ آسانی ضرور آئے گی۔ ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی کے لیے ایک آسان اور شفاف نظام ترتیب دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام نہ صرف نمازیوں بلکہ حکمرانوں کی بھی تربیت کرتے ہیں اور یہ اعزازیہ ان کے لیے ایک چھوٹا سا نذرانہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فروری کے آخر سے آئمہ مساجد کے پنجاب بینک میں اکاؤنٹس کھول دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آئمہ کرام اور حکومت کے درمیان رابطے میں خلل آتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور حکومت ملک میں اتحاد اور امن کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آئمہ کرام اور حکمرانوں کے درمیان مضبوط تعلق ہونا چاہیے۔ بعض لوگوں نے اس اقدام کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، مگر ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت اور تقسیم کو روکنا علما کی ذمہ داری ہے، جبکہ مذہب کے نام پر پھیلائے گئے فتنے نے ایک پرامن معاشرے کو نقصان پہنچایا اور رینجرز و پولیس کے جوان شہید ہوئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ستھرا پنجاب منصوبے کے تحت گلیوں، محلوں اور شاہراہوں کو صاف کیا جا رہا ہے، تاہم بعض مقامات پر صفائی کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور سڑکیں بند کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ اور سڑکیں بند کرنا اگر فتنہ نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فتنے کی سرکوبی صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ اس میں آئمہ کرام کا کردار بھی ناگزیر ہے۔ فساد معاشرے کے لیے زہر اور انسانیت کا قتل ہے، جس کی قرآن و حدیث میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالم چاہے کسی بھی رنگ یا نسل سے تعلق رکھتا ہو، اسے کٹہرے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ریاست اپنے شہدا کے خون کا حساب ضرور لے گی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری قوت سے ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عوام ان قوانین سے خوش نہیں، مگر ان کا مقصد قیمتی جانوں کو بچانا ہے۔ ٹریفک چالان سے انہیں ذاتی فائدہ نہیں، بلکہ قوانین پر عمل سے کئی ماؤں کے بچے حادثات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آئمہ کرام کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے اور علما و آئمہ کرام کو حکومت کا پیغام عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا