وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے آج نہیں تو کل صوبے بنانا پڑیں گے، تاہم اس کے ساتھ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا بھی ضروری ہوگا۔
کراچی کے علاقے جیکب لائن میں ہیلتھ کیئر ڈیجیٹل سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ ناقص نظام اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اس کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث اسپتالوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے، تاہم اب بھی 4 لاکھ بچے ویکسینیشن سے محروم ہیں۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ماں اور بچے کی صحت پر مناسب توجہ نہ دینے کے باعث 40 فیصد بچے اسٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2 فیصد تک نہیں آتا، اس وقت تک پائیدار ترقی ممکن نہیں۔






