کراچی: سانحہ گل پلازہ، جاں بحق افراد کی تعداد 17، 73 افراد تاحال لاپتا

0
1321

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ہے، جب کہ واقعے کے بعد اب بھی 73 افراد لاپتا ہیں۔

سندھ حکومت کی قائم کردہ ہیلپ ڈیسک کے مطابق گزشتہ روز 70 افراد کے لاپتا ہونے کا اندراج کیا گیا تھا، جب کہ آج مزید 3 افراد کے نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ ہیلپ ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق لاپتا افراد میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تقریباً مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، جب کہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے۔

سانحہ گل پلازہ کی تفصیلات

ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی شب تقریباً سوا 10 بجے گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑکی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہوگئے۔

آگ لگنے کے بعد عمارت کے باہر موجود افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں بے بسی کی تصویر بنے رہے، جب کہ فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر مکمل قابو پایا۔

حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز نے پلازہ کے اندر داخل ہو کر محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا برآمد ہوئے، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔

اب تک سانحہ گل پلازہ میں 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

تخریب کاری کا امکان مسترد

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

چیف فائر آفیسر کا مؤقف

چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر آگ لگی، جب کہ 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 10 بج کر 57 منٹ پر ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ میں 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں، تاہم تنگ راستوں کے باعث آگ بجھانے کے عمل میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستے دھوئیں سے بھر گئے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آگ بجھانے کے دوران 2 سے 3 گھنٹے بعد پانی کی قلت پیدا ہوگئی، جبکہ پانی لانے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام کے باعث پھنس گئے۔ ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث بھی پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، تاہم آگ بجھانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال کیا گیا۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تین مختلف مقامات سے حصے گرچکے ہیں اور عمارت مخدوش ہوچکی ہے۔ اس وقت بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹر باوزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں۔ آگ کا 90 فیصد حصہ بجھایا جاچکا ہے، جب کہ عمارت کے اندر موجود سامان میں 10 فیصد آگ تاحال موجود ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا