بچوں کی آواز نے کر دکھایا، 55 دن بعد 8 سالہ بچہ کوما سے باہر

0
473

وسطی چین کے صوبہ ہنان کے شہر یویانگ سے تعلق رکھنے والا لیو چکسی گزشتہ سال نومبر میں ایک کار حادثے کا شکار ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اسے دماغی چوٹیں اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے بعد وہ کوما میں چلا گیا اور ڈاکٹروں نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ اس کے ہوش میں آنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

تاہم لیو کی والدہ نے ہمت نہیں ہاری اور علاج کے دوران ایک مختلف طریقہ اپنایا۔ ماہرین کے مشورے پر انہوں نے مانوس آوازوں کے ذریعے بچے کے دماغ کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ لیو کی والدہ روزانہ اس کے بستر کے پاس اسکول کی صبح کی اسمبلی، ورزش کی دھنیں اور اس کے اساتذہ کی آوازوں پر مشتمل ریکارڈنگز چلاتی رہیں۔

اسی دوران لیو کے استاد نے اس کے ہم جماعتوں کو منظم کیا، جنہوں نے جذباتی پیغامات اور ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ ایک ویڈیو میں ایک طالبعلم نے کہا،
“چکسی، جلدی اٹھو، آؤ ہمارے ساتھ فٹبال کھیلتے ہیں۔”

ایک طالبہ نے پیغام دیا،
“ہم سب تمہیں یاد کرتے ہیں، اگر تم ہمیں سن سکتے ہو تو براہِ کرم آنکھیں کھولو، امتحانات قریب ہیں اور ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”

کچھ بچوں نے لیو کا پسندیدہ گانا گایا جبکہ دیگر نے کلاس روم کی دلچسپ کہانیاں سنائیں۔ یہ تمام ویڈیوز لیو کی والدہ روزانہ اسے سناتی رہیں۔

تقریباً 45 دن بعد لیو نے پلکیں ہلانا شروع کیں اور چند دن بعد استاد کی آواز سن کر مسکرا دیا۔ بالآخر 55ویں دن وہ مکمل طور پر ہوش میں آ گیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو حرکت دینے کے قابل ہو گیا۔

لیو کے ہوش میں آنے کے بعد اس کے استاد اور ہم جماعت کھلونے اور کارڈز لے کر ہسپتال پہنچے اور اس کی عیادت کی۔ اس واقعے کو چین میں امید، حوصلے اور مانوس آوازوں کی طاقت کی ایک شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا