مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال سنگین، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، عالمی تشویش میں اضافہ

0
940

تہران، ریاض اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے جبکہ متعدد ممالک نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں محدود آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان ہوا۔ حملے کے بعد سفارتی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسرائیلی افواج نے تہران اور بیروت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران اور لبنان میں مجموعی طور پر اموات کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے کیے گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر میزائلوں کو روک لیا گیا تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا کے متعدد سفارتخانے بند

بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکا اور کینیڈا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

کویت میں امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی تناؤ کے باعث سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی اور تمام معمول و ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک اور تین لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں بظاہر “فرینڈلی فائر” کا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 6 مارچ تک عارضی بندش کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح عراق میں امریکی سفارتخانے نے غیر ہنگامی سرکاری اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ بغداد میں موجود عملے کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔

ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے نے حملے کے بعد جدہ، ریاض اور ظہران میں شیلٹر اِن پلیس ہدایات جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکا کی ہنگامی ایڈوائزری: 14 ممالک فوری چھوڑنے کی ہدایت

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ہنگامی سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ کے 14 ممالک فوری طور پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارے اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث جلد از جلد روانگی اختیار کریں۔

خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا