وزیراعظم کا ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم

0
359

اسلام آباد: وزیرِ اعظم نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ اور اس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے اور اس سے منسلک نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دی۔ اس کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی تھری اے کو نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرنے کے لیے منتقل کیا جائے گا تاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لائی جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کے آغاز کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ نجی شعبے کی شمولیت کو مؤثر بنایا جا سکے۔

مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے کے نظام ( کا حصہ بنایا جائے تاکہ ان منصوبوں کی رفتار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پی تھری اے کے ذریعے نظام کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس کو مختلف ممالک میں رائج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز پر بریفنگ دی گئی، جس میں خطے اور عالمی سطح پر کامیاب مثالوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ نئے مجوزہ نظام کے خدوخال سے بھی آگاہ کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کے سپرد کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے اس نئے نظام پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے گی بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اجلاس میں سمیت دیگر وفاقی وزرا، مشیران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف امور پر اپنی آراء پیش کیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ملک میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور پبلک سیکٹر کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا