واشنگٹن: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ابراہیمی معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، جب تک 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی، پاکستان اپنے مؤقف میں کوئی لچک نہیں لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا معمار ہے اور 47 سال بعد امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی ممکن بنائے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی ہے اور پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، جبکہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا اصولی مؤقف غیر متزلزل ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں پاکستانی سفیر اور دفتر خارجہ کے دیگر حکام بھی شریک تھے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا اور حالیہ پیش رفت بھی پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن جانا چاہیے۔






