اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کو پانی کی سکیورٹی کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد ملک میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا، جبکہ بھارت 5 ہزار سے زائد ڈیم بنا چکا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں ملک کی آبی صورتحال، سیلابی خطرات اور آبی ذخائر سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جبکہ پنجاب نے 2 ہزار 737 مقامات پر تجاوزات کی رپورٹ دی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے سیلاب کی پیش گوئی اور دریاؤں کے مؤثر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے دریائے چناب پر آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں مستقبل کے آبی منصوبوں اور قومی آبی سلامتی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی خلیل طاہر نے دریائے راوی میں تجاوزات کے معاملے پر سوال اٹھایا، جس پر چیف انجینئر پنجاب نے بتایا کہ دریا سے آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ تاہم چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو درست معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غلط معلومات کی صورت میں معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے۔
چیئرمین واپڈا محمد سعید نے مزید بتایا کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ اس وقت بند ہے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم امید ہے کہ منصوبہ مارچ 2028 تک دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئی گاج ڈیم منصوبہ عدالتی کارروائی کے باعث رکا ہوا ہے، حالانکہ اس منصوبے سے دادو اور سیہون میں سیلاب کے خطرات کم ہوں گے اور 28 ہزار ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بن سکے گی۔ ان کے مطابق منصوبے پر اب تک 23 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ سابق کنٹریکٹر کی جانب سے جعلی بینک گارنٹی جمع کرانے پر اس کا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔






