۔11 اگست کو ٹھیکہ دینے والے کی تعیناتی 18 اگست کو ۔ انوکھی واردات کی تفصیلات

0
156

اسلام آباد (مسعود چوہدری) لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں زیر سماعت رٹ پٹیشن نمبر 9534 آف 2026 اور سینیٹ کی متعلقہ سب کمیٹی کی رپورٹ کے تناظر میں ڈی جی حج کی مدت ملازمت، توسیع، حج 2027 کے لیے ٹینڈرنگ پراسیس اور وزارت مذہبی امور کے انتظامی فیصلوں پر متعدد قانونی و انتظامی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈی جی حج عبد الوہاب سومرو کی تین سالہ قانونی مدت ملازمت اپریل 2026 میں مکمل ہو چکی تھی، تاہم نئی قانونی توسیع کے بغیر جدہ میں ڈی جی حج کے عہدے کے امور جاری رکھنے کا معاملہ سامنے آیا۔ سینیٹ کی متعلقہ سب کمیٹی کی رپورٹ میں بھی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد کیے گئے اقدامات کو Void اب آغاز اور کورم نان جوڈیس قرار دینے کا مؤقف سامنے آ چکا ہے، جس کے باعث اس عرصے میں کیے گئے سرکاری اقدامات کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 18 اگست 2026 کو توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، تاہم یہ نوٹیفکیشن مدت ملازمت ختم ہونے اور اس کے بعد متعدد انتظامی اقدامات کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ اس صورتحال نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا مذکورہ نوٹیفکیشن کو پوسٹ فیکٹو توسیع کے طور پر استعمال کیا گیا، اور اگر ایسا ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے رٹ پٹیشن نمبر 9534 آف 2026 میں 11 اگست 2026 کو قرار دیا تھا کہ بڈنگ پراسیس اور ڈی جی حج کے اقدامات کا حتمی فیصلہ عدالت کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں میں یہ اصول سامنے آ چکا ہے کہ قانونی اختیار یا مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد کیے گئے سرکاری اقدامات کی قانونی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی اور حالات کے مطابق ایسے اقدامات کو Coram Non Judice اور Void Ab Initio قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت یا متعلقہ فورم یہ طے کرتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے افسر کے پاس متعلقہ وقت میں قانونی اختیار موجود نہیں تھا تو اس عرصے میں کیے گئے فیصلے اور اقدامات بھی قانونی جانچ کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

معاملے میں وزارت مذہبی امور کے ہیڈکوارٹر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ ڈی جی حج کی مدت مکمل ہونے سے قبل مستقل ڈی جی حج کی تعیناتی کا عمل مکمل کیوں نہیں کیا گیا اور عبوری انتظام کو کیوں جاری رکھا گیا۔ اسی طرح یہ بھی وضاحت طلب ہے کہ آیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے ایسے انتظامی فیصلے کیے گئے جن کے نتیجے میں جدہ میں موجود انتظامیہ کو غیر معمولی تحفظ حاصل ہوا۔

حج پروکیورمنٹ کمیٹی میں متعلقہ سینئر افسران کی شمولیت میں تبدیلی بھی سوالات کی زد میں ہے۔ اگر نگرانی کرنے والے سینئر افسران کو کمیٹی سے الگ کیا گیا تو اس فیصلے کی وجوہات، قانونی بنیاد اور ٹینڈرنگ پراسیس پر اس کے ممکنہ اثرات کو واضح کرنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں مستقل ڈی جی حج کی تعیناتی کے لیے اہل گریڈ 20 افسران کی سمری بھی بھیجی گئی تھی، تاہم مستقل تقرری عمل میں نہ آ سکی۔ اس صورتحال میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سمری پر بروقت فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اور اسے بعد ازاں واپس کیوں منگوایا گیا۔ یہ پہلو بھی تحقیقات کا متقاضی ہے کہ آیا سمری کی واپسی سے موجودہ انتظام کو برقرار رکھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ بعد میں نئے سرکلرز کے اجرا کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اگر ان کے ذریعے تقرری کے قواعد یا طریقہ کار میں کوئی تبدیلی کی گئی تو اس کی قانونی حیثیت، ضرورت اور ٹائمنگ بھی واضح کی جانی چاہیے۔

حج 2027 کے لیے ٹینڈرنگ پراسیس میں پیپرا قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 5 اگست 2026 تک مطلوبہ 107,562 گنجائش کا لائسنس کسی بولی دہندہ کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا، جبکہ آر ایف پی میں 110,000 گنجائش کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مطلوبہ تکنیکی اہلیت پوری نہ کرنے والے بولی دہندگان کو مالی بولی کے مرحلے تک کیسے پہنچنے دیا گیا۔

اسی طرح 11 اگست 2026 کو بولی جمع ہونے کے بعد مزید تین دن کا وقت دیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس اضافی مہلت کی قانونی حیثیت اور پی پی آر اے رولز 28، 30 اور 31 سے اس کی مطابقت کی وضاحت طلب کی جا رہی ہے، کیونکہ بولی جمع ہونے کے بعد کسی مخصوص بولی دہندہ کو اضافی وقت فراہم کرنا شفاف مسابقت، مساوی مواقع اور ٹینڈرنگ کے بنیادی اصولوں پر سوال اٹھا سکتا ہے۔

معاملے کا ایک اور اہم پہلو مشروط ایوارڈ یا توسیع سے متعلق خط پر دستخط کا ہے۔ الزام سامنے آیا ہے کہ متعلقہ خط ایسے افسر سے دستخط کروایا گیا جسے 15 جون 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت مشروط ایوارڈ یا توسیع دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ اگر ریکارڈ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دستخط کرنے والے افسر کے پاس قانونی اختیار موجود نہیں تھا تو خط کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ نوٹیفکیشن، قواعد اور تفویض کردہ اختیارات کی روشنی میں کرنا ہوگا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا کسی افسر نے اپنے قانونی اختیار کے بجائے کسی دوسرے افسر کے دستخط استعمال کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا۔ اگر ایسا عمل ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض انتظامی بے قاعدگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ذمہ داری کے تعین اور ممکنہ قانونی کارروائی کا تقاضا بھی کرے گا۔

مذکورہ تمام معاملات کے تناظر میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مبینہ غیر قانونی توسیع کا فوری قانونی جائزہ لیا جائے اور اگر وہ قواعد کے خلاف ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق منسوخ یا درست کیا جائے۔ مستقل ڈی جی حج کی تقرری کا اصل عمل دوبارہ شروع کرتے ہوئے 12 دسمبر 2025 کے سرکلر کے مطابق اہل گریڈ 20 افسر کی میرٹ پر تعیناتی کی جائے۔

اسی طرح 11 اگست 2026 کے مبینہ بعد از بولی خط اور 18 اگست 2026 کے توسیعی نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت کی آزادانہ جانچ، موجودہ تین سالہ آر ایف پی اور اس سے متعلق تمام متنازع اقدامات کا جامع جائزہ اور حج 2027 کے لیے وزارت کے ہیڈکوارٹر کی مؤثر نگرانی میں پی پی آر اے قواعد کے مطابق شفاف، مسابقتی اور میرٹ پر مبنی ٹینڈرنگ پراسیس یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس تمام تفصیلات پر صحافی مسعود چوہدری اور سینئر صحافی شعیب بھٹہ کی تفصیلی گفتگو کا ویڈیو لنک

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا