ملازمہ تشدد کیس میں اہم پیشرفت

0
312

اسلام آباد(طلوع نیوز) گھریلو ملازمہ رضوانہ کا کہنا ہے کہ جج کی اہلیہ مجھے روزانہ تشدد کا نشانہ بناتی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے،رضوانہ نے اسلام آباد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ذرائع کے مطابق رضوانہ نے او ایس ڈی جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کے تشدد کی ساری کہانی سنا دی۔رضوانہ نے بیان دیا کہ جج کی اہلیہ صومیہ عاصم روزانہ مجھ پر تشدد کرتی تھی۔ مجھے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سمیت دیگر چیزوں سے مارتی،ملزمہ غصے میں آ کر لاتیں بھی مارتی تھی۔ رضوانہ کے مطابق صومیہ عاصم مجھے کئی کئی روز بھوکا رکھتی،وہ باہر جاتے تو مجھے ہفتہ ہفتہ گھر میں بند رکھتے تھے۔ گھریلو ملازمہ نے بیان میں کہا کہ مجھے والدین سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی،ٹیلی فون پر بات کراتے مگر جج کی اہلیہ ساتھ ہوتیں۔عاصم حفیظ کی اہلیہ تشدد کے بارے میں گھر والوں کو بتانے سے منع کرتی اور وہ میرے زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں کراتے تھے۔ یاد رہے کہ سول جج کو او ایس ڈی بنانے کے بعد تفتیش کی راہ ہموار ہو گئی۔ وفاقی پولیس نے عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلئے دوبارہ طلب کر لیا ہے۔ عاصم حفیظ کو بطورِ جج تفتیش میں شامل کرنا مشکل تھا۔ جے آئی ٹی کیلئے عاصم حفیظ کو شاملِ تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شاملِ تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا۔جے آئی ٹی رضوانہ کے والدین اور ملزمہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ کر چکی ہے۔ جبکہ رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ کے شوہر سول جج عاصم حفیظ کو او ایس ڈی بنایا گیا تھا۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے عاصم حفیظ کا بطور او ایس ڈی نوٹیفکیشن جاری کیا،19 اگست سے قبل راولپنڈی میں چارج سنبھالنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا