اسلام آباد(طلوع نیوز)نگران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ الیکشن کب ہونے چاہیں ، اس میں ہماری کوئی خواہش نہیں۔ انتخاب 90 دن میں ہوں یا فروری میں، یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔نگران کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ اپنی حلف برداری کی پاسداری کریں۔ نگران حکومت کی اہم ترجیح معیشت کی بہتری رہے گی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ہر وزیر سے بریفنگ لی اور ملک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر پر زور دیا۔ اپنی ذمہ داری آئین وقانون کے تحت پوری کریں گے۔مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں جڑانوالہ واقعے پر تفصیلی غور ہوا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کسی فرقہ کیخلاف زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ ریاست کی طاقت مظلوموں کیساتھ کھڑی رہے گی۔اسلام کے نام پر کسی دوسرے مذہب کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ اسلام ہمیں دوسروں کیساتھ بہتر سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔نگران وزیر اطلاعات نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک میں آزادانہ، شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا گیا۔ رول آف آرڈر سے ہی قانون کی حکمرانی ہوگی۔شفاف الیکشن کیلئے الیکشن کمیشن سے بھرپور تعاون کریں گے۔ الیکشن کے دن پہلا ووٹ نگران وزیراعظم اور اس کے پاس کابینہ اراکین ڈالیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے معطل پروگرام کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے، اس کی کچھ شرائط ہیں۔ملکی اور غیر ملکی سطح پر کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے۔ پیٹرولیم مصنوعات کو مہنگے داموں خرید کر اسے سستا نہیں بیچ سکتے۔ہمارے ذرائع محدود جبکہ اخراجات بہت زیادہ ہیںمرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم نےسرکاری اخراجات میں کمی کاکہاہے۔ ملکی معیشت پر ہماری توجہ رہے گی، سرکاری اخراجات کو کم سے کم رکھے جائیں گے۔






