میری بیٹی کو جان کا خطرہ ہے،عدالتیں انسانی حقوق کا تحفظ کریں،شیریں مزاری

0
133

اسلام آباد(طلوع نیوز)سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ میری بیٹی کو جان کا خطرہ ہے،ایمان مزاری کو دھوپ میں بٹھائے رکھا،تھانے پہنچی تو بے ہوش ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر شریں مزاری نے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بیٹی کو دھوپ میں بٹھائے رکھا،تھانے پہنچی تو بے ہوش ہو گئی،ایمان مزاری کو بے ہوش ہونے پر بغیر طبی امداد سیل میں بند کر دیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی کو صحت کے مسائل ہیں جس پر اس نے کھانے سے منع کر دیا،بیٹی کو کہا کہ صحت کا خیال رکھو دشمن تو چاہتا ہے صحت خراب ہو۔ شیریں مزاری نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں انسانی حقوق کا تحفظ کریں،میری بیٹی کو جان کا خطرہ ہے۔ قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت میں بغاوت اور دہشت گردی دفعات کے تحت درج مقدمے میں شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور علی وزیر کو پیش کیا گیا۔پراسکیوٹر کی جانب سے ایمان مزاری اور علی وزیر کے 10،10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے دونوں کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مںظور کر لیا اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو گرفتار کیا تھا۔سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خواتین پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد میری بیٹی کو ساتھ لے گئے، گھر میں ہم صرف 2 خواتین ہی تھیں اور میری بیٹی اپنے رات کے کپڑوں میں تھی۔ اس نے اہلکاروں سے کہا کہ مجھے کپڑے بدلنے دو لیکن وہ اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اہلکاروں سے وارنٹ کا پوچھا تو انہوں نے نہیں دکھائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا