آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

0
132

لاہور(طلوع نیوز) آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف عدالت سے رجوع کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست محمد مقسط سلیم ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی جس میں وفاقی حکومت،وزارت داخلہ اور قانون کو فریق بنایا گیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدر مملکت کا بیان سامنے آیا کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ پر دستخط نہیں کئے۔ صدر کے انکار کے بعد ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں رہی،ایکٹ درست طریقہ کار سے پاس نہیں ہوا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو غیر قانونی قرار دے کر عملدرآمد فوری روکنے کا حکم دے،جبکہ عدالت حتمی فیصلے تک ایکٹ کو معطل قرار دے۔یاد رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے قانون بننے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، گزٹ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ صدرکی جانب سے بل کی توثیق ہوگئی ہے، گزٹ نوٹیفکیشن پر 18 اگست کی تاریخ درج ہے۔ جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کی تھی۔ صدر علوی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اللّٰہ گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے۔صدر کے مطابق میں ان بلز سے اتفاق نہیں کرتا، میں نے اپنے عملے کو کہا کہ بل کو بغیر دستخط کے واپس بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عملے سے کافی بار تصدیق کی کہ بلز بغیر دستخط کے واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے صدرِمملکت کی ٹویٹ کی روشنی میں عدالتِ عظمیٰ سے فوری رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ آئین و قانون، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوریتِ و پارلیمان کی بقا و سلامتی کیلئے خوف و خدشات سے اوپر اٹھ کر مؤقف اختیار کرنے پر صدرِمملکت سے اظہارِتشکّر کرتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا