ن لیگ میں ٹکٹوں کی تقسیم پراختلافات

0
318

پارلیمانی بورڈ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ن لیگ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پیدا شدہ اختلافات کو حل کرنے کیلئے صلاح مشورے جاری ہیں۔ ایاز صادق بمقابلہ روحیل اصغراور طلال چوہدری بمقابلہ نواب شیر وسیر معاملہ حل کرنے بارے کوشش جاری ہے۔ این اے 121 سے روحیل اصغر اور ایاز صادق پارٹی قیادت کو الیکشن لڑنے کا واضح عندیہ دے چکے ہیں، این اے 121 کی 12 یونین کونسل کے چیئرمینز نے ایاز صادق کی حمایت کی ہے۔سابق سپیکرنے این اے 119 اور 117 میں بھی کاغذات جمع کرارکھے ہیں اور ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں انہوں نے اپنا مؤقف پیش کیا اور کہاکہ حلقے کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے حق کیلئے نہیں لڑسکتے، میں ضد کرنا اور منوانا جانتا ہوں لیکن پارٹی ڈسپلن کا پابند ہوں۔ذرائع کے مطابق این اے 96 جڑانوالہ میں طلال چوہدری اور نواب شیر وسیر کا معاملہ بھی حل طلب ہے، ن لیگ میں طلال چوہدری کیلئے مریم نوازاور نواب شیر وسیر کیلئے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کام کررہے ہیں، نواب شیر وسیر پی ٹی آئی کے منحرف رکن ہیں اور شہباز شریف سمیت پارٹی قیادت نے عمران خان کے مخالف تحریک عدم اعتماد کے سلسلہ میں سرگرم کردار ادا کرنے کے عوض پارٹی تکٹ کا وعدہ کیا تھا لیکن مریم نواز طلال چوہدری کی طرفدار ہیں علاوہ ازیں استحکام پاکستان پارٹی سے بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ بھی زیر غور ہے قیادت مشوروں کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پی کو ن لیگ لاہور میں ایک قومی اسمبلی اور 2 صوبائی اسمبلی کی نشستیں دینے کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ نارووال میں احسن اقبال اور دانیال عزیز کا جھگڑا بھی جاری ہے، احسن اقبال نے دانیال عزیز کے این اے 75 کے نیچے پی پی 54 میں کاغذ جمع کرادیے، پی پی 54 میں دانیال عزیز اپنے نمائندے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا