افغانستان کے شہر قندھار میں خود کش حملہ، 3 افراد ہلاک

0
246

کابل : افغانستان کے شہر قندھار میں جمعرات کے روز ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور 11 مارچ کو رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سے ملک بھر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم طالبان حکام کی جانب سے چند دھماکوں کی تصدیق کی گئی ہے۔افغانستان کا دارالحکومت کابل ہے لیکن سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ قندھار شہر میں رہتے ہیں جو کئی دہائیوں سے طالبان تحریک کا گڑھ رہا ہے۔

صوبہ قندھار کے ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ کلچر انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ ہوا جس میں تین ہم وطن ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔صبح 8 بجے کے قریب ہونے والے دھماکے میں وسطی قندھار شہر میں نیو کابل بینک برانچ کے باہر انتظار کر رہے لوگوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا۔سمانگانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘عام طور پر ہمارے ہم وطن اپنی تنخواہیں لینے کے لیے وہاں جمع ہوتے ہیں۔طالبان حکام نے بینک کے باہر کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور صحافیوں کو جائے وقوعہ کے قریب نہیں جانے دیا تھا۔

تاہم اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ دھماکے کے نتیجے میں بظاہر بے ہوش افراد یا لاشیں ایمبولینسوں میں لدی جا رہی ہیں۔فائر فائٹرز اور سیکیورٹی اہلکار اس علاقے کو صاف کر رہے تھے جہاں خون، کپڑوں اور جوتوں کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔اسپتالوں نے معلومات کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا اور کہا کہ انہیں میڈیا سے بات نہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔سمانگانی نے کہا کہ شہر کے ایک اسپتال میں جہاں زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے وہاں صورتحال قابو میں ہے اور انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ خون کے عطیات کی فوری ضرورت ہے جیسا کہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔انہوں نے صحافیوں کے نام ایک پیغام میں کہا، “ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اور زخمی وں کی حالت سنگین نہیں ہے، انہیں سطحی چوٹیں آئی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا