خیبر پختونخوا میں پیپلزپارٹی کی درخواست پرسینٹ انتخابات ملتوی کر دیئے گئے

0
247

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں انتخابات کروانےکیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا عملہ پہنچا اور اسمبلی میں انتظامات ہونے کے باوجود آخری وقت پیپلزپارٹی کی دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ملتوی کر دیئے گئے جبکہ بلوچستان اسمبلی کی خالی نشستوں پر تمام 11 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہونے کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218 (3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 4 (1)، سیکشن 8 (سی) اور سیکشن 128 اور اس سلسلے میں آئین و قانون کی دیگر تمام شقوں کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک مخصوص نشستوں کے مقابلے میں منتخب اراکین کو حلف نہیں دلایا جاتا۔ مزید کہا گیا ہے کہ کے پی اسمبلی کے اسپیکر سے نوٹیفائیڈ اراکین کی جانب سے حلف لینے کے لیے مخصوص نشستوں کے لیے رابطہ کیا گیا تھا تاہم حلف کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 218 (3) میں دی گئی ایمانداری، انصاف اور شفافیت کے معیارکو منتخب ارکان کو حلف نہ لینے کی وجہ سے پورا نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ قانونی رائے دہندگان کے حق رائے دہی سے محروم ی اور رائے دہندگان کو یکساں مواقع سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے الیکٹورل کالج نامکمل ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے احمد کریم کنڈی نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے 25 ارکان نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا ہے اور درخواست کی ہے کہ انتخابات ملتوی کیے جائیں۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے نومنتخب اراکین اسمبلی کو حلف دلانے کے حالیہ حکم پر عمل کرنے کے بجائے کے پی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پولنگ سے قبل عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کے پی اسمبلی انتخابات نہیں کرواتی۔ تاہم سینیٹ فعال رہے گی اور قانون سازی بھی کر سکتی ہے، چیئرمین اپنی جگہ پریزائیڈنگ افسر کو چیئرمین سینیٹ بھی منتخب کر سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا