سائبیریا کے شہر یورال میں 10 ہزار رہائشی مکانات زیر آب آ گئے،روس

0
219

ماسکو : روس کا کہنا ہے کہ سائبیریا کے شہر یورال میں 10 ہزار سے زائد رہائشی مکانات زیر آب آ گئے ہیں۔ روس پہلے ہی ہزاروں افراد کو نکال چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر اورنبرگ سے ہیں۔
روس نے پیر کے روز کہا ہے کہ یورال، وولگا کے علاقے اور مغربی سائبیریا میں 10 ہزار سے زائد رہائشی عمارتیں زیر آب آ گئیں۔ اتوار کے روز روس نے اورنبرگ کے علاقے میں وفاقی ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا، جہاں دریائے یورال نے اورسک شہر کے زیادہ تر حصے میں پانی بھر دیا تھا اور اب اورنبرگ کے مرکزی شہر میں خطرناک حد تک پہنچ رہا ہے۔

روس کی ہنگامی وزارت نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ سائبیریا کے وولگا علاقے پریولژی اور وسطی وفاقی علاقوں میں ہوا کے درجہ حرارت میں اضافہ، فعال برف پگھلنے اور دریاؤں کے بہاؤ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔10,400 سے زیادہ رہائشی مکانات سیلاب میں ڈوب گئے ہیں۔روس پہلے ہی ہزاروں افراد کو نکال چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر قازقستان کے قریب اورنبرگ کے علاقے سے ہیں۔

اورنبرگ ریجن کے حکام کا کہنا ہے کہ اورسک میں دریائے اورال میں 9 سینٹی میٹر (3.5 انچ) کی کمی واقع ہوئی ہے لیکن اورنبرگ کے مرکزی شہر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ رہی ہے۔
علاقائی حکومت کا کہنا ہے کہ ‘اورنبرگ میں ایک دن میں پانی کی سطح میں 16 سینٹی میٹر سے 872 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔روسی میڈیا نے اس کے میئر سرگئی سالمین کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیلاب ‘غیر معمولی’ ہونے کا خدشہ ہے اور جبری انخلا کا انتباہ دیا گیا ہے۔روس کے محکمہ موسمیات کی نگرانی کرنے والے روسگیڈرومیٹ نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ بدھ کے روز اورنبرگ میں سیلاب اپنے عروج پر پہنچ جائے گا اور شہر کے کئی اضلاع متاثر ہوں گے۔

حکام نے سائبیریا کے علاقوں تیومین اور کرگان میں پانی کی سطح میں “ناگزیر” اضافے کے بارے میں بھی متنبہ کیا ہے۔قازقستان کی سرحد کے قریب تقریبا 300،000 افراد کی آبادی والے شہر کرگان میں ہنگامی خدمات کا کہنا ہے کہ انہوں نے “روک تھام” کا کام شروع کیا اور 571 افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا۔کریملن نے کرگان اور تیومین کے حکام کو ‘فطرت میں بے قاعدگیوں’ کا حوالہ دیتے ہوئے الرٹ رہنے کا حکم دیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا