مظفرآباد کے گنجان آباد علاقہ رنجاٹہ کی نو تعمیر شدہ سڑک رنجاٹہ نے دریائے رنجاٹہ کی شکل اختیار کر لی۔ مون سون کے آغاز سے قبل ہی رنجاٹہ روڈ خونی دریا میں تبدیل ہو گئی۔ معمولی بارش کے بعد رنجاٹہ سڑک کے دونوں اطراف حفاظتی نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے بارشی پانی سڑک پر بہتا ہوا ترکی چوک تک دونوں جانب رہاشیوں کو شدید متاثر کرنے لگا۔ سڑک پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو گئی۔
ابھی مون سون کا آغاز ہونا باقی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کے گنجان آباد علاقہ رنجاٹہ میں تعمیر ہونے والی سڑک کے دونوں اطراف محکمانہ غفلت اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے بارشی پانی کی نکاسی کے لیے نہ تو نالیاں تعمیر کی جا سکیں اور نہ ہی اس پانی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست کیا جا سکا۔ جس کی وجہ سے معمولی بارش کے بعد بارشی پانی سڑک کے اوپر دریا کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک روانی تو معطل ہو کر رہ ہی جاتی ہے مگر اس پانی نے دونوں اطراف رہایشیوں کو شدید اذیت کا شکار کر رکھا ہے۔
بارشی پانی ریلے کی صورت لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے اور شدید نقصان کرتے ہوئے ترکی موڑ سے ہوتا ہوا دریائے نیلم میں جا گرتا ہے۔ رنجاٹہ کے رہائشیوں جن میں سردار نصیر احمد خان حیدری، فیاض مغل، توحید مغل و دیگر نے کہا ہے کہ دوران سڑک تعمیر ہم نے بارہا محکمہ شاہرات، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس طرف توجہ دلائی تھی مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ متعدد مرتبہ عوام علاقہ رنجاٹہ نے اس سڑک کی تعمیر کے دوران ہونے والے نقائض کی بھی نشاندہی کی اور احتجاج بھی ریکارڈ کرائے مگر محکمانہ غفلت اور ٹھیکیدار کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے سڑک کا کام تو مکمل کر لیا گیا مگر ناقص تعمیر اور قوانین ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے اپنے بینک اکاؤنٹ بھر لیے گئے مگر لوگوں کو دہری مصیبت کا شکار کر دیا گیا ہے۔
ایک طرف تو حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے ہڑپ کر لیے گئے اور دوسری جانب معمولی بارش کے بعد لوگوں کو شدید اذیت میں مبتلا کرتے ہوئے آئے روز لاکھوں روپے کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکمہ اور ٹھیکے دار کے سر ہے۔
عوام علاقہ رنجاٹہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ارباب اختیار سمیت چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، اعلی عدلیہ اور چیئرمین احتساب بیورو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام، ذمہ داران اور ٹھیکیدار کا قبلہ درست کریں اور کروڑوں روپے ریاستی خزانے کے ہڑپ کرنے کے بعد لوگوں کو دوہری اذیت کا شکار کرنے پر نوٹس لیا جائے۔ عوام علاقہ نے مزید مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روڈ کے دونوں طرف نہ سہی ایک طرف فوری طور پر حفاظتی نالیاں تعمیر کی جائیں اور پانی ان کے ذریعے نکاسی کیا جائے تاکہ لوگ آئے روز ہونے والی بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقصانات سے محفوظ ہو سکیں






