ایران کرنسی میں تیزی، 48 گھنٹوں میں 60 ارب ریال کی خرید و فروخت

0
3

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت طے ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور غیر یقینی صورتحال میں تبدیلی کے اثرات کرنسی مارکیٹ پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اس کی قدر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایک کروڑ ایرانی کرنسی کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے کے اضافے کے بعد تقریباً ساڑھے 3 ہزار سے ساڑھے 4 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں تقریباً 60 ارب ایرانی ریال کی خرید و فروخت ہوئی، جس کی پاکستانی روپے میں مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی کرنسی کی طلب دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی ہے، اور اس وقت خریدار زیادہ تر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں بھی سیاسی اور جنگ بندی کے اعلانات کے بعد ایرانی کرنسی میں تیزی دیکھی گئی تھی، تاہم بعد ازاں کشیدگی بڑھنے پر اس کی قدر دوبارہ کم ہو گئی۔

ملک بوستان نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایرانی کرنسی میں احتیاط سے سرمایہ کاری کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال صرف مفاہمت کی یادداشت تک محدود ہے اور حتمی معاہدے تک اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے بعد ہی ایرانی کرنسی کی حقیقی اور مستحکم قدر واضح ہو سکے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا