دمشق میں بشار الاسد کے دور کے خاتمے کے بعد شام کی نئی حکومت نے اپنی کرنسی سے 2 صفر ہٹا کر نئے نوٹ جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عوام میں شامی پاؤنڈ پر اعتماد بحال کرنا ہے۔
شام کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالقادر حسریہ نے العربیہ کو دیے گئے بیان میں اس اقدام کی تصدیق کی اور کہا کہ سرکاری، نجی اور مرکزی بینکوں کے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ نئی کرنسی کے اجراء کے لیے ضروری اقدامات طے کیے جا سکیں۔ البتہ اس عمل کے لیے حتمی ٹائم فریم ابھی طے نہیں کیا گیا۔
2011 میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شامی پاؤنڈ نے اپنی قدر کا 99 فیصد سے زیادہ کھو دیا ہے۔ جنگ سے پہلے ایک ڈالر کے مقابلے میں 50 شامی پاؤنڈ کی شرح تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ کرنسی کی اس گراوٹ نے روزمرہ لین دین اور رقوم کی منتقلی کے عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔






