آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ نے ہلچل مچا دی

0
205

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے کھاتوں پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ رپورٹ نے ہلچل مچا دی ہے اور حیران کن انکشافات سامنے لائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی مالیات میں 375 ٹریلین (3 لاکھ 75 ہزار ارب) روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ملکی جی ڈی پی اور وفاقی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 284 ٹریلین روپے خریداری، 85 ٹریلین روپے نامکمل سول ورک، 2.5 ٹریلین روپے واجبات و ریکوریوں اور 1.2 ٹریلین روپے گردشی قرضوں میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل اخراجات اور منظوریوں میں صرف 370 ارب روپے کا فرق تھا، لیکن بے قاعدگیوں کا حجم 375 ٹریلین روپے تک جا پہنچا، جس نے حکومتی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یا تو یہ کوئی سنگین حسابی غلطی ہے، یا پھر مالیاتی ریکارڈنگ اور آڈٹ کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اے جی پی دفتر کا مؤقف ہے کہ بعض اوقات بے قاعدگیوں کا حجم بجٹ سے بھی زیادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ اعداد کیسے سامنے آئے۔ یہ رپورٹ صدرِ پاکستان سے منظور ہو چکی ہے اور اب پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا