راولپنڈی میں جبری شادی کی کوشش ناکام ہونے پر حکام نے 16 سالہ افغان لڑکی نوشابہ اور اس کی والدہ کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو افغانستان سے ایک افغان شہری مالی خان کوئٹہ کے کچلاک روٹ کے ذریعے لایا تھا۔اس نے اس کے والدین کو ملازمت دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کی شادی اپنے بھائی
گل خان سے کرنے کا ارادہ کیا۔ نوشابہ کی والدہ شہناز بی بی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ماں اور بیٹی گدھوں پر سوار ہو کر پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے راولپنڈی پہنچے،
جہاں چرچ روڈ پر خان کی رہائش گاہ پر ان کی میزبانی کی گئی۔ تاہم، جب گل خان سے تعارف کرایا گیا تو لڑکی نے اس کی شکل کی دیکھ کرشادی سے انکار کر دیا اور اپنی والدہ پر افغانستان واپس جانے کے لیے دباؤ ڈالا۔اس کے انکار کے باوجود، خان نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ایک عالم دین کو لاکر زبردستی نکاح کرانے کی کوشش کی۔ نوشابا کے احتجاج نے پڑوسیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ، جس کی وجہ سے مولوی کو بھاگنے اور شادی سے انکار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
مقامی افراد نے پولیس کو فون کیا جس کے بعد خان فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے افغان ماں اور بیٹی کو حراست میں لے لیا۔قانونی سفری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کو ملک بدری کے لیے ڈپٹی کمشنر کے افغان سیل کے حوالے کر دیا گیا۔ انہیں 48 گھنٹوں کے اندر طورخم بارڈر کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔ دھمیال پولیس نے مقدمہ درج کرکے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے جنہوں نے انہیں پاکستان میں غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے اور آباد کرنے کی کوشش کی تھی






