بھارت پانی راجستھان ڈائیورٹ کرتا تو تباہی نہ ہوتی: رمیش سنگھ اروڑا

0
130

شکر گڑھ: صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ 27 اگست کی صبح کرتار پور دربار صاحب میں سیلاب آیا، جس میں 80 سے 100 افراد محصور ہو گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فوری طور پر پانی نکالا گیا اور فیلڈ مارشل نے کرتار پور کی رونقیں بحال کرنے کے احکامات دیے۔

رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ بھارت نے راوی، چناب اور ستلج ندیوں میں پانی کا ریلہ چھوڑا، اور اگر پانی راجستھان ڈائیورٹ کیا جاتا تو یہ تباہی نہیں ہوتی۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانی کا درست انتظام نہیں کیا۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ کرتار پور میں عبادت اور مذہبی رسومات جلد شروع ہوں گی، تاہم بجلی کی بحالی ابھی نہیں ہو سکی۔ حکومت پنجاب کھانا اور پانی فراہم کر رہی ہے اور سکھ سنگت، پی ایم یو مینجمنٹ، متروکہ وقف املاک بورڈ اور پربندھک کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ رمیش سنگھ اروڑا نے سکھ قوم اور پاکستان کے تعلقات کو “ناخن اور گوشت” کے مترادف قرار دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا