کہروڑ پکا میں دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب آگئی، جس سے مہاراں پتن، رام کلی، کوٹ کوڑا، شاہ ابو طاہر اور دیگر علاقے متاثر ہوئے۔ پی ڈی ایم اے نے اگلے 24 گھنٹے کو اہم قرار دیتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔
سیلاب سے مکئی، کپاس اور تل کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جس سے کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچا۔ متاثرین نے حکومت سے ویٹرنری ادویات، رہائش، کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کی فوری سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ریسکیو ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ سرگرم عمل ہیں اور فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔ وفاقی وزیر عبدالرحمان کانجو نے متاثرین سے ملاقات کر کے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی۔
دریائے ستلج اور راوی کے لیے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، اور بہاولپور، لیہ، مظفرگڑھ اور ڈی جی خان کے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو اپنے مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اگر چاہیں تو میں اس خبر کو سوشل میڈیا کے لیے مختصر، فوری اور پرکشش انداز میں بھی بدل دوں تاکہ فوری شیئر کیا جا سکے۔






