دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم برفانی تودہ اے 23اے جو 1986 میں انٹارکٹیکا سے الگ ہوا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تیزی سے پگھل رہا ہے۔ تقریباً 40 سال تک اس کا رقبہ 1500 مربع میل اور وزن ایک ہزار ارب ٹن رہا، جو کراچی سے بھی بڑا تھا۔یہ برسوں ایک ہی جگہ جما رہا، مگر 2020 کے بعد حرکت میں آیا، دسمبر 2024 میں دوبارہ سفر شروع کیا اور مارچ 2025 میںجیورگیا سائوتھ کے قریب پھنس گیا، جہاں اس سے مقامی پینگوئنز اور سمندری حیات کو خطرہ لاحق ہوا۔ مئی میں نکلنے کے بعد یہ گرم پانیوں میں تیزی سے پگھلنے لگا۔
اب اس کا سائز 50 فیصد کم ہوکر 683 مربع میل رہ گیا ہے، جبکہ بڑے بڑے ٹکڑے الگ ہوکر جہازرانی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آئندہ چند ہفتوں میں مکمل طور پر غائب ہو جائے گا۔





