بیجنگ: وزیراعظم شہباز شریف نے چین کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاکستان چین کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھنا چاہتا ہے۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی چیانگ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں سی پیک کے تحت ایم ایل ون، قراقرم ہائی وے کی ری الائمنٹ اور گوادر پورٹ کے جلد نفاذ پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان جلد چینی کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرے گا۔ ملاقات میں سی پیک فیز 2 بشمول پانچ نئے کوریڈورز پر تیزی سے کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں 300 پاکستانی اور 500 چینی کمپنیوں نے شرکت کی، جہاں زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعت اور آئی ٹی کو سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی خودمختاری اور ترقی میں چین کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور صدر شی جن پنگ کے عالمی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں جوائنٹ ایکشن پلان 29-2024 پر دستخط کو اہم سنگِ میل قرار دیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، میڈیا اور زراعت سمیت کئی معاہدوں کی تقریب میں شرکت کی۔
دونوں رہنماؤں نے آئندہ سال پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ شایانِ شان طریقے سے منانے پر بھی اتفاق کیا۔






