“آواز جو نغمہ بھی ہے اور سہارا بھی”

0
442
محمد عثمان
محمد عثمان

پاکستان ایک بار پھر تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ لاکھوںخاندان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں،بچے بوڑھے سبھی کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار نظر آرہے ہیں،کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے
ایسے ہولناک مناظر میں جہاں اکثر لوگ محض افسوس پر اکتفا کرتے ہیں وہاں ایک نام ایسا ہے جو نہ صرف گائیکی کی دنیا میں جانا پہچانا ہے بلکہ انسانیت کی خدمت میں بھی نمایاں ہے اور وہ نام ہے حدیقہ کیانی کا، جو اپنی شہرت، اپنی پہچان اور اپنے وسائل کو سیلاب متاثرین کے لئے وقف کر چکی ہیں۔ انہوں نے صرف امدادی سامان پہنچانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میدانِ عمل میں اتر کر متاثرہ خاندانوں کے لئے مستقل چھت فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کا یہ جذبہ جس کے تحت وہ “وصیلہ راہ” کے منصوبے کے ذریعے گھروں کی تعمیر کروا رہی ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی یہ عظیم فنکارہ دل کی سچائی اور خلوص سے خدمتِ خلق کو اپنا مشن بنا چکی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب حدیقہ کیانی قوم کے ساتھ کھڑی دکھائی دی ہوں۔ اس سے پہلے بھی 2010 کے خوفناک سیلاب میں وہ متاثرین کے شانہ بشانہ نظر آئیں۔ اس وقت بھی انہوں نے فنڈ ریزنگ مہمات چلائیں، راشن تقسیم کیا اور عملی طور پر میدان میں اتر کر سیلاب زدگان کا سہارا بنیں۔ لیکن موجودہ تباہ کن سیلاب نے انہیں مزید متحرک کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ سوچا کہ وقتی امداد سے زیادہ اہم یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو مستقل سہارا ملے۔ اسی سوچ کے تحت وہ خود دیہاتوں اور بستیوں میں گئیں، متاثرین سے ملیں، ان کے دکھ بانٹے اور ان کے لئے نئے گھروں کی بنیاد رکھوائی۔ ان کے اس جذبے میں ایک ماں کی ممتا جھلکتی ہے جو کسی بھی بچے کو بے سہارا نہیں دیکھ سکتی۔

حدیقہ کیانی کا فنکارانہ سفر ہمیشہ کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، مگر ان کی اصل پہچان اب صرف ایک گلوکارہ کی نہیں رہی۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ شہرت کا اصل مقصد صرف تالیوں کی گونج نہیں بلکہ قوم کی خدمت ہے۔ وہ اسٹیج سے اتر کر گاؤں کی گلیوں میں، مٹی اور پانی میں بھیگی بستیوں میں اور بے گھر خاندانوں کے درمیان موجود ہوتی ہیں۔ اس عمل نے انہیں ایک زندہ کردار میں ڈھال دیا ہے جو نہ صرف عوام کے دل جیت رہا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک مثال ہے۔

ان کی جدوجہد اس وقت اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اکثر فنکار صرف روشنیوں، کیمروں اور شہرت کے حصار میں قید دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن حدیقہ کیانی نے یہ رویہ بدل کر دکھایا۔ انہوں نے یہ سچ ثابت کیا کہ فنکار کا دل محض نغموں کے لئے نہیں دھڑکتا بلکہ وہ اپنی قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے بھی تڑپتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ذکر اب صرف ایک گلوکارہ کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فلاحی کارکن، ایک سماجی خدمت گزار اور ایک انسان دوست کے طور پر بھی ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا آج پاکستان کو زیادہ تر بحرانوں اور مسائل کے حوالے سے جانتی ہے۔ لیکن جب ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکارہ سیلاب متاثرین کے لئے گھر تعمیر کر رہی ہو تو دنیا کے سامنے پاکستان کا وہ پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے جو محبت، ہمدردی اور ایثار سے لبریز ہے۔ حدیقہ کیانی کے یہ اقدامات نہ صرف سیلاب زدگان کے لئے امید کا چراغ ہیں بلکہ پاکستان کی سافٹ امیج بلڈنگ میں بھی سنگِ میل ثابت ہو رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ حدیقہ کیانی کا یہ جذبہ ان کے ذاتی زندگی کے فیصلوں سے بھی جھلکتا ہے۔ انہوں نے ایک یتیم بچے کو گود لے کر یہ پیغام دیا کہ دوسروں کی پرورش اور سہارا بننا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ یہی جذبہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ سیلاب کے شکار ہونے والے ہر بچے میں اپنے بیٹے کا عکس دیکھیں اور یہ عہد کریں کہ انہیں کبھی بے سہارا نہیں چھوڑیں گی۔

آج کے نوجوانوں کو ان کی زندگی سے یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ کامیابی کا اصل حسن صرف شہرت یا ذاتی عیش و آرام میں نہیں بلکہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔ حدیقہ کیانی نے اپنی مثال سے یہ دکھا دیا ہے کہ ایک فرد بھی اگر چاہے تو لاکھوں لوگوں کی زندگی میں روشنی پیدا کر سکتا ہے۔ وہ اس ملک کی بیٹی ہیں جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان کے فنکار صرف نغمہ خواں نہیں بلکہ خدمتِ خلق کے علمبردار بھی ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب بھی پاکستان کی تاریخ لکھی جائے گی تو حدیقہ کیانی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ ان کا فن، آواز، خدمات اور انسان دوستی ایک ایسے کردار کو جنم دیتی ہیں جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔ وہ عہد ساز فنکارہ ہی نہیں بلکہ ایک روشن مثال بھی ہیں کہ کس طرح شہرت کو خدمت میں بدلا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے لئے ایک مشعلِ راہ ہے اور یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو ایک آواز لاکھوں زندگیوں کا سہارا بن سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا